طیارہ حادثہ میں جان کی بازی ہارنیوالی ایئرہوسٹس انم خان کے گھرمیں صف ماتم بچھ گئی

لاہور (نیوز ڈیسک) کراچی طیارہ حادثے میں شہید ہونے والی ایئر ہوسٹس انم خان کے گھر میں سوگ۔ بیٹا تم نے روزہ کیوں رکھا ہے، جس پر انم خان نے جواب دیا کہ پاپا میں شام کو پونے چھ بجے تک واپس آ جاؤں گی، اور سوا چھ بجے تک گھر پہنچ جاؤں گی، ان شاء اللہ افطاری ساتھ ہی کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں حادثے کا شکار ہونے والی پی آئی اے کے طیارے کی ایئر ہوسٹس انم خان کے اہل خانہ غم سے نڈھال ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق طیارہ حادثے میں شہید ہونے والی ایئر ہوسٹس انم خان کے اہل خانہ اپنی جواں سالہ بیٹی کی ناگہانی موت کا یقین نہیں کر پا رہے،

ان کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی بھی انم کے فون کا انتظار ہے۔ نجی ٹی وی کے رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے انم خان کے والد کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی نے صبح اٹھ کر سحری کی اور اس کا موڈ بے حد خوشگوار تھا۔انم خان کے والد نے بتایا کہ ان کی بیٹی سحری کرنے کے بعد دوبارہ سوگئی اور پھر میں نے اسے 9 بجے کے قریب اٹھایا، تو وہ بہت اچھے موڈ میں اٹھی، اٹھتے ہی بولی کہ پاپا وقت ہو گیا ہے میرا، میں ذرا پتا کر لوں کہ میری گاڑی آ رہی ہے کہ نہیں۔ انم کے والد نے بتایا کہ اس کے بعد انم کہتی ہے کہ پاپا میری گاڑی آ رہی ہے میں بس تیار ہونے لگی ہوں۔ والد نے پوچھا کہ بیٹا تم نے روزہ کیوں رکھا ہے، جس پر انم خان نے جواب دیا کہ پاپا میں شام کو پونے چھ بجے تک واپس آ جاؤں گی، اور سوا چھ بجے تک گھر پہنچ جاؤں گی، ان شاء اللہ افطاری ساتھ ہی کریں گے۔شہید انم کے والد نے بتایا کہ آج پہلا اتفاق ہوا کہ میں اور میری اہلیہ دونوں اپنی بیٹی کو گاڑی میں بٹھانے گئے۔ شہید ایئر ہوسٹس کے والد کے مطابق ان کی 3 بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے جن میں سے انم خان سب سے بڑی بیٹی تھی، اور سب سے زیادہ خیال رکھنے والی تھی۔ انم خان کے چھوٹے بھائی نے بہن کی موت کے غم میں روتے ہوئے کہا کہ مجھے بس میری بہن کی کال کا انتظار ہے، وہ جب بھی آتی تھی مجھے کہتی تھی آ جائیں بھائی میں آ گئی ہوں۔