آزاد کشمیر:ڈی سی باغ حمید کیانی کا رات کو ارجہ میں غریب ڈرائیور پر بدترین تشدد

مظفر آباد(پی کے نیوز)آزادکشمیرمیں لاک ڈاون کی آڑ میں تشدد کے واقعات بڑھنے لگے۔ ڈی سی باغ حمید کیانی کا رات بارہ بجے ارجہ کے مقام پر غریب ڈرائیور پر بدترین تشدد ۔حمید کیانی نے تشدد کے بعد غریب ڈرائیور کو حوالات بند کرا دیا جو بعدازاں مجسٹریٹ سے چار ہزار جرمانے کی سزا کے بعد رہا ہوا، بلال یعقوب خواجہ ولد یعقوب خان ساکنہ پھونٹ اسلام نگر ضلع باغ مورخہ 17 مئی رات 12 بجے راولپنڈی سے اپنے رشتہ داروں کے ہمراہ راولپنڈی سے آ رہا تھا کہ ارجہ بازار میں ڈپٹی کمشنر باغ حمید کیانی نے ذاتی طور پر ناکہ لگا کر گاڑی کو روکا اور غریب محنت کش پر لاتوں اور مکوں

کی بارش کرتے ہوئے زدوکوب کیا،وہاں موجود عینی شاہدین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈی سی باغ حمید کیانی نے 17 مئی کو رات ارجہ بازار میں ناکہ لگا رکھا تھا کہ ایک گاڑی جس کو بلال ڈرائیو کر رہا تھا کو روکا اور ڈرائیور سے پوچھ گچھ کرنے کے بعد اسے مرغا بنا کر منہ پر لات ماری جس سے بلال کو منہ اور ناک سے خون بہنے لگا لیکن ظالم ڈی سی نے پھر بھی بس نہ کی اور 15 منٹ تک لاتوں مکوں کی بارش کرتے رہے، بلال بے حال ہوگیا ہے اور ظالم ڈی سی جس سے باغ کی عوام انصاف کی امید لگائے بیٹھے ہیں نے مظلوم کو ہسپتال لے جانے کے بجائے ارجہ چوکی سے پولیس والوں کو بلایا اور بلال کو حوالات بند کرا دیا جہاں پولیس نے بھی زدوکوب کیا اور دوسرے روز اے سی دھیرکوٹ کے روبرو پیش کیا جہاں اے سی نے اپنے افسر کی خوشنودی کے لیے بلال کو چار ہزار کا ٹیکہ بھی لگایا، ڈی سی باغ کی جانب سے عوام پر تشدد کا صرف ایک واقعہ سامنے آیا ہے اسکے علاوہ کئی ایسے لوگ بھی ہیں جو خوف کی وجہ سے زبان بند کر لیتے ہیں اور ڈی سی عوام کو سپاہیوں کی طرح دھڑلے سے تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے، ڈی سی باغ کی جانب سے غریب محنت کش کی تذلیل پر عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہم سرکاری افسران کی ناانصافی کیخلاف ڈی سی کو امید کی کرن سمجھتے تھے ڈی سی ضلع میں ماں کا درجہ رکھتا ہے عوام میں پر امید ہوتی ہے کہ ڈی سی آفس سرکاری افسروں کی زیادتی کا ازالہ کرے گا لیکن اب ڈی سی حمید کیانی نے خود ہی جج اور جلاد بن کر عوام کا ڈی سی آفس سے اعتماد اٹھا دیا ہے،

عوامی حلقوں نے ڈی سی باغ کی کارستانیوں پر وزیراعظم آزاد کشمیر سے بھی نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا کہ وزیر اعظم بلال اور اس جیسے جتنے لوگ ڈی سی کے ظلم کا شکار ہیں انکو انصاف فراہم کرنے کے لیے کردار ادا کریں،اس کے علاوہ لاک ڈاون کے دوران دیگر اہم مقامات پر آزادکشمیر پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں۔۔ دوسری جانب ڈی سی باغ حمید کیانی سے جب موقف لینے کے لیے رابطہ کیا تو انہوں نے بدتمیزی کی انتہا کرتے ہوے واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کیا جب انسے پوچھا گیا کہ نوجوان پر تشدد کرنا درست اقدام ہے؟ تو موصوف نے انتہائی بدتمیزی کا مظاہرہ کرتے ہوے کہا کہ درست اور صیح کا سرٹیفکیٹ بانٹنے کا اختیار آپ کو کس نے دیا جب انسے پوچھا گیا کہ آپ کو ایک غریب آدمی کو اس بے دردر سے مارنے کا اختیار کس نے دیا تو موصوف کوئی جواب نہ دے سکے اور فون بند کردیا،