صحافی عزیز میمن کا معاملہ،کیس حل، ملزم نے اعتراف جرم کرلیا

نوابشاہ(نیوز ڈیسک) ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سندھ پولیس (اے آئی جی) غلام نبی میمن نے انکشاف کیا ہے کہ تفتیش کے دوران اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ صحافی عزیز میمن کو قتل کیا گیا، ان کی موت طبعی نہیں تھی، عزیز میمن کے قتل کا ماسٹر مائنڈ مشتاق سہتو ہے، نذیر سہتو نے بھی اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔نوابشاہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اے آئی جی غلام نبی میمن نے کہا کہ ملزمان نے خود کوچھپانے کی بہت کوشش کی لیکن قانون کی گرفت سے نہ بچ سکے، تفتیش کےدوران تمام اداروں نے مکمل تعاون کیا، قتل کیس میں اب تک تین ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، مزید پانچ کو گرفتار کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اعترافی بیان کے بعد ملزم نذیر سہتو کو جوڈیشل اور دیگر دو ملزمان کو ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔اے آئی جی سندھ نے بتایا کہ صحافی عزیزمیمن کو قتل کیا گیا، موت طبعی نہیں تھی، عزیز میمن کو دشمنی پرقتل کیا گیا، ملزم نذیر سہتو کا ڈی این اے میچ کر گیا، نذیر نے تفتیش کے دوران مزید ملزمان کےنام بھی بتائے اور عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کیا۔انہوں نے بتایا کہ مرکزی ملزم کا نام مشتاق سہتو ہےجو قتل کا ماسٹر مائنڈ تھا، میں کوئی غیرمصدقہ بات نہیں کروں گا، عزیز میمن کو دشمنی کی بنا پر قتل کیا گیا، مزیدتحقیقات جاری ہے۔مقتول صحافی کے بھائی عبدالحفیط میمن نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عزیز میمن کے قتل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔عبدالحفیط میمن نے کہا کہ کیس میں 200 افراد سے تفتیش اور پوچھ گچھ کی گئی، اب تک کی تفتیش سے مطمئن ہیں۔خیال رہے کہ عزیز میمن کی لاش 16 فروری کو محراب پور کے قریب نہر سے ملی تھی۔پولیس نے 19 فروری کو عزیز میمن کے کیمرہ مین سمیت 4 نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ درج کیا تھا۔مقتول صحافی عزیز میمن کو گذشتہ سال بلاول بھٹو کے ٹرین مارچ کے دوران اس وقت شہرت ملی تھی جب انہوں نے ٹرین مارچ میں 200 روپے لے کر آنے والی خواتین کی اسٹوری کی تھی۔خبر کے بعد مقتول صحافی عزیز میمن کو دھمکیاں مل رہی تھیں جس کا اظہار انہوں نے کئی بار کیا بھی تھا۔