پنجرے سے طوطا اڑانے پر اس ظالم شخص نے 8سالہ معصوم بچی کیساتھ کیا سلوک کیا تھا

راولپنڈی(نیوز ڈیسک) گزشتہ روز روز راولپنڈی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں غلطی سے پنجرے سے طوطا اڑانے پر مالک نے تشدد کرکے 8 سالہ ملازمہ زہرہ شاہ کو قتل کر دیا۔بتایا گیا کہ راولپنڈی بحریہ ٹاون میں 8 سالہ ملازمہ زہرہ شاہ نے طوطے سے کھیلنے کی کوشش کی تو غلطی سے پنجرہ کھول لیا،جس سے طوطا اڑ گیا۔اس کے بعد مالک نے کمسن ملازمہ پر بدترین تشدد کیا جس کے نتیجے میں وہ اسپتال میں علاج کے دوران ہی دم توڑ گئی۔پولیس نے ملازمہ پر تشدد کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔سوشل میڈیا پر زہرہ شاہ کے قتل کے خلاف آواز اٹھائی جارہی ہے۔اور انہیں انصاف دلانے کے

لئے سوشل میڈیا پر ( #JusticeForZohraShah ) ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے۔سوشل میڈیا صارفین نے ناصرف سفاک شخص کی مذمت کی بلکہ نوٹس نہ لینے پر وزارت انسانی حقوق کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔کمسن ملازمہ کے لئے انصاف کی آواز بلند کرنے والوں میں وسیم اکرم کی اہلیہ یہ شنیرا اکرم اور سیاسی رہنما شرمیلافاروقی بھی شامل ہیں۔ایک صارف نے کہا کہ سب کو زہرہ شاہ کو انصاف دلوانے کے لیے آواز بلند کرنی چاہئیے۔ایک صارف نے کہا کہ اس شخص کو سر عام پھانسی دینی چاہئیے۔پولیس کا کہنا ہے کہ بچی پر تشدد کرنے والوں میں ملزم کی بیوی بھی شامل تھی۔ملزم حسن صدیقی کا طوطے فروخت کرنے کا کاروبار تھا اور انہوں نے گھر پر بھی طوطے رکھے ہوئے تھے۔حسن صدیقی کے گھر میں کام کرنے والی 8 سالہ ملازمہ ایک پنجرے کی صفائی کر رہی تھی کہ اس دوران پنجرہ اچانک کھلنے سے دو طوطے اڑ گئے جس پر ملزم اور ان کی اہلیہ طیش میں آگئے اور بچی کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔پولیس کے مطابق حسن صدیقی بچی کو اسپتال منتقل کرنے کے بعد فرار ہوگئے تھے مگر بروقت کاروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا ہے۔بدترین تشدد کے باعث بچی کی گال، پسلیوں اور رانوں پر گہرے زخموں کے نشانات تھے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جن حصوں پر زخموں کے نشان ہے ان سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بچی کے ساتھ زیادتی کی گئی۔