معیشت کا رونا اور کرونا ۔۔۔ تحریر: شازیہ کاسی

ایک بحث آج کل ہمارے درمیان چل رہی ہے کہ ہم وبائی امراض کی وجہ سے لاک ڈاؤن نہیں کر سکتے کیوں کہ ہمارے جیسے ملک اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو گھر بٹھا کر کھلا نہیں سکتے ۔ لیکن یہ بحث تو اب بے معنی هو چکی ہے کیوں کہ اب تو ہم نے اس کے ساتھ زندہ رہنا ہے ۔ بہت وقت تھا ہم بہت کچھ اچھا کر سکتے تھے مگر نہیں کیا گیا اور حکومت کے درمیاں اتفاق را ے نہیں هو سکا ۔ ہم جنوبی ایشیا کا ریکارڈ توڑ چکے ۔ میرا موضوع اس سے متعلق ہے ہی نہیں ۔ خدا جانے 126 دن دھرنے کے دوران حکومتی اقدامات کو نظر انداز کرکے ہم نے کون سے تیر مار لئے کہ ہماری معاشیات کو چار چاند لگے ۔

خود فرمایا گیا باہر سے لوگ ہنڈی حوالہ کے ذریعے پیسہ پاکستان بھیجیں اور اب خود ٹی وی پہ مہم شروع کر رکھی ہے حکومت نےکہ بینکوں کے ذریعے پیسہ بھیجیں ۔ سی پیک مفلوج ہوگیا، سفارتی تعلقات میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی وہ تو بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا کے مصداق بھارت کی حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے اسکو تنہائی کا شکار ہونا پڑا ۔ عام انسان کی باتیں کرنے والے افراد کو بڑی بڑی سکرینوں پر بڑے بڑے نمبر دکھا کر پیٹ نہیں بھرتا اور پھر انکے خود نمبر بھی ان سے سنبھل نہ سکے ۔ خیر یہ باتیں قصہ پارینہ هو چکی ہیں مگر آج کے معروضی حالات سے منسلک ضرور ہیں ۔ اصلی وجہ جاننے کی کوشش ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئے ۔ لہٰذا زندگی کو مصرف کے ا عتبار سے دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں 1۔ ضروریات 2۔ اصراف بحیثیت زرعی ملک ہماری اجناس کی قیمتوں میں بلکل اضافہ نہیں ہونا چاہئے جبکہ اپوزیشن کے و شمار کے مطابق اور تاجر برادری کے افکار کے مطابق ہماری برامدات میں نہایت کمی واقع ہوئی ہے اور یقین کریں یہ کمی دور عزت مآب مشرف صاحب کے زمانے سے شروع ہوئی جنہوں نے درامدات پہ ٹیکس اور ڈیوٹی کی شرح کم کی اور اس طرح سے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا ۔ یہ جو امریکا کہتا ہے نا کہ ہم نے دشت گردی کے خاتمے کے لئے اتنی امداد دی یہ سچ ہے کہ دی مگر ان اخراجات کے بارے میں میں اور آپ نہیں پوچھ سکتے کیوں کہ قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے ۔ مگر سیاستدان کا دھرن تختہ ہو جاتا ہے ۔آج سٹیل مل کے ملازمین کی برطرفی کا مطلب مزید بیروزگاری ہے یا نہیں۔ اس لاک داؤن میں ان لوگوں کا کون پرسان حال ہوگا ۔

یہ ملازم کسی حکومت نے رکھے ہوں کیا یہ پاکستانی نہیں ہیں۔ حفیظ شیخ زلفی بخاری شہزاد اکبر یہ پاکستانی نہیں ہیںنہ ہی کوئی عوامی نمائندے مگر آئی ایم ایف اور فنڈنگ کرنے والے اتنا اثر رسوخ رکھتے ہیں کہ جو چاہے انکا حسن کرشمہ ساز کرے ۔ ہم نیوکلیئر پاور رکھتےہیں مگر اس سے بجلی نہیں بناتے کہ ہمارے کارخانے چلیں لوگوں کو اچھی مزدوری ملے تاجر خوش حال ہو تو اجرت میں اضافہ ہو ۔ ہاں مگر ہمیں تمام موبائل کمپنیوں کےپیکجز سستے ترین ریٹس پر مل جائیں گے اور ہمارے مستقبل کے معمار رات رات بھر جاگ کے سنت فرہاد و شیریں پہ عمل کرتے ہیں اور دن بھر خواب و خرگوش کے مزے لوٹتے ہیں ۔

جس زمانے میں ساری دنیا اور خصوصی طور پہ امریکا میں Economics recession آیا ہوا تھا اور دنیا کے تمام تر بینک اپنے ملازمین کو نکال رہے تھے اس زمانے میں ہمارے ملک میں private banks دن دوگنی اور رات چو گنی ترقی کر رہے تھے گھر ، گاڑی ،ذاتی قرضے دیئے جا رہے تھے اور انکی تنخوا ہیں قسطوں میں جا رہی تھیں ۔ اس وقت ہمارے وزیر اعظم تھے جناب شوکت عزیز جو کہ سٹی بینک نیویارک کے صدر تھے اور یقین مانیں گے وہ واقعی آسمان سے اترے تھے بذریعہ جہاز جنکے پاس کوئی constituency نہیں تھی جو کہ بعد میں اتری گئی تھی ۔

جب آپ manufacturing ختم کردیتے ہیں تو امپورٹ پہ انحصار بڑھ جاتا ھے ۔ امپورٹ کا مطلب ہے کہ تجارتی خسارہ بڑھ جاتا ھے یعنی آپ باہر تو پیسہ بھیج رہے ہیں مگر آپ کے ex chequer میں کمی واقع ہوتی ہے یعنی زر مبا دلہ میں کمی جس کی وجہ سے آپ کاغذی نوٹ چھاپتے ہیں ۔ چوں کہ ہمارے پاس زرمبادلہ کی کمی ہے تو روپے کی قدر میں کمی ہو جاتی ہے ۔ جس کے نتیجے میں inflation of money ہوتی ہے ۔ یہ وہ بنیادی وجوہات جو میری نا قص رائےمیں ہیں بحیثیت کامرس کے طالب علم۔ باقی فیصلہ آپ لوگ خود کر لیں کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں ۔