کرونا وائرس ،حکومتی آگاہی مہم اور ہم عوام ۔۔۔ تحریر: شازیہ کاسی

کراچی کے حالات حکومت سندھ کے دعوؤں کے برعکس بہت ہی زیادہ خراب ہیں۔ اگر آپ کرونا سے متاثر ہیں تو ضیاءالدین، سیفی، لیاقت نیشنل، آغا خان اور دیگر ہسپتالوں میں آپ کو وینٹی لیٹر نہیں ملے گا اور نہ ہی کوئی ڈاکٹر آپ کے پاس آئے گا۔ یہ ساری باتیں آپ جب اس مرض کے ساتھ ہسپتال میں جائیں گے تو پتا چلتی ہے۔  یہ تو رھے ہمارے انتظامات کے ڈھول کے پول اب حکومت نے  جو بہت مشکل سے کروڑوں روپے آگاہی مہم کے نام پر جو تذبذب میں ڈالا۔ لاک ڈاؤن ہوگا سخت ہوگایا نرم ہوگا وفاق اور صوبے آمنے سامنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ پوری قوم کرونا سے لڑنے کیلئے

میدان میں اتر آئی جسکا نظارہ کراچی میں فوڈ اسٹریٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔ بازاروں اور مالز کو چھوڑیں گلی کوچوں میں لوگ سماجی فاصلوں کی دھجیاں اڑاتے نظر آتے ہیں۔ کوئی ماسک نہیں پہنا جاتا ما سواے چند ایک مقامات پر جہاں پولیس کچھ سختی نہیں بلکہ بے عزتی کرے تو ۔ لہٰذا وائرس پھیلنے کے امکانات خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ کوئی بھی کسی کو انفیکشن میں مبتلا کر سکتا ہے ۔یاد رکھئے اگر کسی کو اس بیماری سے گزرنا پڑا تو اس کا بس ایک ہی علاج ہوگا صرف “دعا” یا پھر پیناڈال جو ہر 4 گھنٹے بعد کھانی ہے اور 15 دن کا انتظار۔ کرونا کا جہاں مفت ٹیسٹ ہوتا ہے وہاں صرف روزانہ کی بنیاد پہ 200 افراد کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے اور لوگ رات سے ہی لائنوں میں بیٹھے رہتے ہیں۔ آج دوپہر آغا خان ہسپتال میں مزید مریض لینے کی گنجائش نہیں رہی۔ یہی حال دوسرے بڑے ہسپتالوں کا ہے۔ پسماندہ علاقوں کا الگ منظر نامہ ہے ۔ ایک ہیلپ لائن تک میسر نہیں یہاں پر ہسپتالوں کے درمیاں کوئی coordination تک نہیں ۔ عوام سے صرف یہی اپیل ہے کہ خدا کے واسطے کرونا ایک بھیانک حقیقت ہے اور اس کا واحد علاج صرف اور صرف “احتیاط” ہے۔ زندگی اور موت کا فیصلہ اللہ کے پاس ھے مگر موت اور خودکشی میں فیصلہ آپ کی عقلمندی پر منحصرہے، آپ بلا وجہ باہر نہ نکلیں ۔ ایک دوسرے سے محفوظ فاصلہ اختیار کریں ۔ماسک ضرور پہنیں ہاتھوں کو دھوتے رہیں اس سے پہلے کہ آپ یا آپ کے پیارے اپنی اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھوبیٹھیں۔