راجہ سکندر اور کالا خان کی میزبانی میں آل پارٹیز بین الاقوامی کشمیر اتحاد کانفرنس کا انعقاد ، ہندوستان کو گھنائونے اقدامات سے روکنے کا مطالبہ

لندن (پی کے نیوز) راجہ سکندر اور کالا خان پوری دنیا میں کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کرنے والی جماعتوں اور تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے میں کامیاب، گلوبل پاکستان کشمیر سپریم کونسل کے زیر اہتمام آل پارٹیز بین الاقوامی کشمیر اتحاد کانفرنس کا انعقاد، کانفرنس سے گورنر پنچاب چوہدری سرور، صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان،سینیٹر راجہ ظفرالحق، جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم، سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد ، اراکین برطابوی پارلیمنٹ، اراکین لارڈز سمیت کشمیری لیڈرز اور سوشل ایکٹوسٹس نے شرکت کی ،صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ اگر دنیا نے کشمیر

کی موجودہ سنگین صورتحال کا نوٹس نہ لیا اور ہندوستان کی طرف سے ڈومیسائل کے نئے کالے قانون کے نفاذ کے بعد جاری کھیل کو نہ روکا جس کے تحت وہ کشمیر کی موجودہ آبادی کے تناسب کویکسر تبدیل کر کے اسے ہندو ریاست میں بدلنا چاہتا ہے تو پھر بعد میں کشمیریوں کے ہاتھ کچھ بھی نہیں بچے گا اور نہ ہی اُن کے دکھوں کا مداوا اور اُن کے جائز حق خودارادیت کا کوئی کارآمد نتیجہ نکلے گا۔ چونکہ ہندوستان بڑی تیزی کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کے راستے پر گامزن ہے وہ ہندوستان بھر سے انتہاء پسند ہندوؤں کو کشمیر میں لاکر آباد کر رہا ہے اوروہ ہٹلر کے نیورم برگ قوانین کی طرز پر ویسا ہی کھیل کشمیر میں کھیل رہا ہے جو جرمنی میں یہودیوں کے خلاف ہٹلر نے کھیلا تھا۔ لہذا یہ وقت ہے کہ دنیا ہندوستان کو ان گھناؤنے اقدامات سے روکے اور اس کے خلاف BDSمہم کا آغاز کرے۔ مشرق وسطیٰ کے کچھ ممالک نے ہندوستان کا نان حلال گوشت درآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے جو اچھی شروعات ہیں۔ پاکستانی اور کشمیری تارکین وطن ہمارا اثاثہ اور طاقت ہیں جو ہر حال میں کشمیر کاز کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ برطانوی اور یورپین ممبران پارلیمنٹ کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لئے زبردست کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان گلوبل اور سپریم کونسل کے چیئرمین راجہ سکندر خان اور اس کے صدر کالا خان کوکامیاب بین الاقوامی ورچوئیل کشمیراتحاد کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار صدر آزادجموں وکشمیر سردار مسعود خان نے بین البراعظمی اور بین الاقوامی کشمیر ورچوئیل اتحاد کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس کا انعقاد

پاکستان گلوبل اینڈ سپریم کونسل نے کیا، اس عالمی کانفرنس کا مقصد تمام جماعتوں اور تنظیموں کو ایک چھتری اور ایک پلیٹ فارم کے سائے تلے ایک منظم،مربوط اورمشترکہ سٹرٹیجی کے ذریعے کشمیر کاز کو آگے بڑھانا اور اسے عالمی سطح پر اُجاگر کرناہے۔ کانفرنس میں برطانیہ، امریکہ، کنیڈا، ڈنمارک، سپین، ساؤتھ افریقہ، بیلجیئم، فرانس، اٹلی، جاپان، ملائشیا،قطر، پاکستان اور آزادکشمیر کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کانفرنس سے گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور، سینیٹر راجہ ظفر الحق اور سینیٹر جنرل (ر) عبدالقیوم، برطانیہ میں تعینات پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد ایوب، برطانوی ممبران پارلیمنٹ و شیڈو

وزراء، ایم پی افضل خان، خالد محمود ایم پی، یاسمین قریشی ایم پی، محمد یاسین ایم پی، طاہر علی ایم پی، لارڈ نذیر احمد، نورین فاروق ابراہیم ممبر قومی اسمبلی و ممبر کشمیر کمیٹی، چوہدری طارق فاروق سینئر وزیر آزادحکومت، چوہدری محمد سعید سابق وزیر آزادکشمیر، عبد الرشید ترابی چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی آزادکشمیر، چوہدری پرویز اشرف سابق وزیر آزادحکومت، راجہ فہیم کیانی صدر تحریک کشمیر برطانیہ، آفتاب احمد بھٹ چیئرمین جموں وکشمیر سالویشن موومنٹ، غلام محمد صفی کنونیئر تحریک حریت جموں وکشمیر، سید فیض احمد نقشبندی، کنونیئر حریت کانفرنس آزادکشمیر شاخ،آغا تنویرصدر GPKSCسیاسی امور،

راجہ سلطان صدر GPKSCلندن، عبد الحمیدلونAPHC، ماریہ اقبال ترانہ،سید شبیر احمدصدر GPKSCآزادکشمیر، ڈاکٹر خالد محمود امیر جماعت اسلامی آزادکشمیر، جاوید راٹھور چیئرمین کشمیر سالڈیریٹی کونسل نارتھ امریکہ، غزالہ حبیب چیئرپرسن فرینڈز آف کشمیر انٹرنیشنل، ڈاکٹر غلام نبی میر صدر ورلڈ کشمیر آگاہی فورم امریکہ، ڈاکٹر فرحان مجاہد چک سیکرٹری جنرل کشمیر CIVITASکنیڈا، علی رضا سید چیئرمین کشمیر کونسل یورپ (بیلجیئم)،سردار علی شاہ نوازخان ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سکینڈی نیوین کونسل، ممتاز حسین فنانشل ڈیلی انٹرنیشنل (اٹلی)، محمد غالب صدر تحریک کشمیر یورپ، راجہ حنیف MBEسکاٹ لینڈ، سلمان

خان چیئرمین کشمیر گروپ افریقہ، راجہ سونیNIDAسپین، شاہد مجید (جاپان)، رانا اطہر جاوید ڈائریکٹر جنرل پاکستان ہاؤس ڈنمارک، ڈاکٹر احمد جاوید صدر تحریک کشمیر قطر، چوہدری طارق محمود چیئرمین پاکستان پیٹریاٹک فرنٹ برطانیہ، ڈاکٹر غلام نبی فائی ڈائریکٹر کشمیر امریکن کونسل، نعیم چوہدری صدر کشمیر فورم فرانس، ڈاکٹر مبین شاہ(ملائشیا) اور مرتضیٰ شاہ بیورو چیف جنگ وجیو برطانیہ و یورپ نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے مزید کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگ دوہرے لاک ڈاؤن کا شکار ہیں۔ ہندوستان نے پہلے پانچ اگست 2019کو

اپنے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کے ذریعے آرٹیکل 370اور 35-Aکو منسوخ کرتے ہوئے کشمیر کو دو یونین ٹریٹریز میں تقسیم کیااور مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا نفاذ کر دیا۔ لوگوں کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی، اُن سے ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سہولیات چھین لی گئیں، ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر کے ہندوستان کی مختلف جیلوں میں ڈال دیا گیا، پیلٹ گن کا استعمال کرتے ہوئے کشمیریوں کو حتیٰ کے بچوں کو بھی بینائی سے محروم کر دیا گیا، گھر گھر تلاشی کے بہانے خواتین کی آبرو ریزی روز مرہ کا معمول بنا دیا گیا ہے۔ الغرض پورے مقبوضہ جموں وکشمیر کو ایک قید زنداں میں بدل کر رکھ دیا گیا ہے۔