روسی سائنسدانوں نے 42ہزار سال قدیم کیڑے کو دوبارہ زندہ کردیا

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) جدید سائنس نے عقل دنگ کرنے والاتجربہ کرلیا، روسی سائنسدانوں نے بالترتیب42ہزار سال اور 32ہزار سال قدیم دو ’ورمز‘ کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ geologyin.comکا کہنا ہے کہ یہ کیڑے اتنے ہزار سال سے سائبیریا کی برف میں دبے ہوئے تھے۔ 42ہزار سال قدیم کیڑے کو شمال مشرقی سائبیریا میں واقع دریائے کولیما اور 32ہزار سال قدیم کیڑے کو دریائے الازیا کی برف سے نکالا گیا۔ روسی سائنسدانوں نے مختلف مقامات سے تین سو سے زائد ورمز نکالے تھے جن میں سے وہ ان دو کیڑوں کو واپس زندگی کی طرف لانے میں کامیاب ہو گئے، سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ دونوں

مادہ ورم ہیں، جنہیں پرمافراسٹ نمونوں سے الگ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ ورمز کی دو مختلف نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان نسلوں کے نام پیناگرولیمس ڈیٹریٹوفیگس اور پلیکٹس پروس ہیں۔ یہ دونوں ورمز منجمد تھے اور نیند کی حالت میں تھے۔ جب انہیں سائنسدانوں نے غیرمنجمد کیا تو یہ زندگی کی طرف واپس لوٹ آئے اور بالکل ایسے حرکت کرنے اور خوراک کھانے لگے جیسے انہیں کچھ بھی نہیں ہوا تھا، جیسے وہ چند گھنٹے سونے کے بعد بیدار ہوئے ہوں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ امر ان کے لیے ناقابل یقین تھا، جسے دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔ 42ہزار سال قدیم کیڑے کو شمال مشرقی سائبیریا میں واقع دریائے کولیما اور 32ہزار سال قدیم کیڑے کو دریائے الازیا کی برف سے نکالا گیا۔روسی سائنسدانوں نے مختلف مقامات سے تین سو سے زائد ورمز نکالے تھے جن میں سے وہ ان دو کیڑوں کو واپس زندگی کی طرف لانے میں کامیاب ہو گئے، سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ دونوں مادہ ورم ہیں، جنہیں پرمافراسٹ نمونوں سے الگ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ ورمز کی دو مختلف نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں۔