بوکھلائی خاتون ڈرائیورنے اپنی گاڑی سمندر میں ڈبو دی

دُبئی(نیوز ڈیسک) خواتین کے بارے میں ہر کسی کی رائے ہے کہ وہ اچھی ڈرائیورز نہیں ہوتیں۔ حالانکہ دُنیا بھر میں روزانہ جو ہزاروں ٹریفک حادثات ہوتے ہیں ، ان میں زیادہ تر مرد ڈرائیورز ملوث ہوتے ہیں، اس کے باوجود خواتین کی ڈرائیونگ کا مذاق اُڑایا جاتا ہے۔تاہم دُبئی میں ایک خاتون ڈرائیور کی بدحواسی نے ایسا حادثہ کرایا جس نے لوگوں کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق دُبئی کے ساحلی علاقے الممزار کریک میں ایک عرب خاتون نے حادثاتی طور پر اپنی کار ساحل سمندر سے 30میٹر دُور گہرے پانی میں پہنچا دی۔ دُبئی پولیس کے مطابق عرب خاتون الممزار کے ساحل پر گاڑی چلا رہی تھی ،

جب اس نے موبائل فون پر ایک بُری خبر سُنی۔ اس پریشانی کے عالم میں وہ اتنی بدحواس ہوئی کہ پاؤں بریک پر رکھنے کی بجائے ایکسلریٹر پر رکھ دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گاڑی پوری رفتار کے ساتھ سمندر میں دُور تک جا گری۔خوش قسمتی سے خاتون ڈرائیور ڈوبی ہوئی گاڑی سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئی اور یوں اس کی جان بچ گئی۔ یہ واقعہ گزشتہ شام ساڑھے چار بجے پیش آیا۔ پولیس اورطبی امداد کی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔ خاتون تو پانی سے باہر آ گئی تھی تاہم اس کی گاڑی کئی میٹر گہرے پانی میں موجود تھی، جسے کرین کی مدد سے نکال لیا گیا۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ایک اماراتی خاوند نے اپنی بیوی کی خراب ڈرائیونگ پر ہونے والے جرمانوں سے تنگ آ کر اسے دوسری شادی کی دھمکی دے دی تھی۔امارات میں ایک خاوند اپنی بیوی کی وجہ سے بہت پریشان رہنے لگا تھا جس کی غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کی وجہ سے آئے روز کے ٹریفک جرمانوں نے ان کے گھر کا بجٹ خراب کر دیا تھا۔ خاوند کی جانب سے کئی بار بیوی کو سمجھایا گیا، مگر بیوی پر عائد ہونے والے ٹریفک جرمانوں میں کوئی کمی نہ آئی۔ آخرکار تنگ آئے خاوند نے اپنی بیوی کو دھمکی دی کہ اگر اْس نے اب کوئی ٹریفک خلاف ورزی کی تو وہ اور کچھ نہیں کرے گا، بلکہ دوسری شادی کر کے اْس کی سوتن سر پر لا بٹھائے گا۔خاتون یہ دھمکی سْن کر ہکا بکا رہ گئی ، اور پھر اسے اندازہ ہوا کہ اس کا خاوند اس کی ٹریفک خلاف ورزیوں کی وجہ سے کس قدر پریشان ہے اور اس کی رقم کا کتنا نقصان ہو رہا ہے۔ سوتن کے خوف سے اماراتی خاتون سْدھر گئی اور اس نے ٹریفک قوانین کی پابندی کرنا شروع کر دی۔اماراتی خاتون پر گزشتہ چند مہینوں کے دوران اکا دْکا ٹریفک جرمانہ ہی ہوا ہے، جس کے بعد خاوند بھی اْس سے راضی ہو گیا ہے اور اس نے دوسری بیوی لانے کی دھمکی کو عملی رْوپ نہیں دیا۔