کچی عمر کی محبت ۔ ۔ ۔

کلاس روم میں کم عمر جوڑے کی خون میں لت پت لاشیں پڑی ہیں ، ساتھ ہی دو الگ الگ خط پڑے ہیں ، ٹوٹے پھوٹے الفاظ ہیں ، بے ربط تحریریں ہیں ۔بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے بے حد پیار کرتے ہیں ۔ میڈیا نے اس خبر کو حسبِ روایت شہ سرخیوں میں جگہ دینے کے بعدچپ سادھ لی ۔ پولیس نے بھی حسب ِ توقع واقعے کو لڑکی اور لڑکے کی باہمی رضامندی سے کی جانے والے خودکشی قرار دے کرتحقیقا ت پر فل سٹا پ لگا دیا۔کیا کسی نے جاننے کی کوشش کی کہ آخر کیا کیفیت ہوگی جس نے16 سال کے نوجوانوں کو اس انتہائی اقدام پر مجبور کیا ؟جن کو suicide کے صحیح سے سپیلنگ بھی نہ آتے تھے وہ اس نہج تک کیوں کر پہنچے ؟سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا پولیس کی تحقیقات یہاں تک ہونی چائیے کہ پستول سکول کے اندر کیسے آیا ؟ اور آیا لڑکے اور لڑکی نے باہمی رضامندی سے خودکشی کی یا باہمی اختلاف رائے سے؟اور سب سے اہم سوال اس ادوناک واقعے کا ذمہ دارہے ؟والدین ؟معاشرہ؟ استاد ،؟میڈیا کے ذریعے بڑھتی بے راروہی ، ؟ یا کو ایجوکیشن ؟
زندگی کی حقیقت سے ناآشنا ، محبت کے بحر و عروض سے ناواقف ، کچی عمرمیں ناپختہ ذہن ، پر خلوص جذبات ، حساس طبعیت کے مالک ٹین ایجرز کسی کی ذرا سی ہمدردی ، چھوٹی بات یا اچھے فعل سے متاثر ہوکراُس کے گرویدہ ہوجاتے ہیں۔ چھوٹے سے تعلق کو محبت کا نام دے دیتے ہیں ۔پھر جدید ٹیکنالوجی بالخصوص انٹرنیٹ اور موبائل فون کے بے دریغ اور غیر ضروری استعمال نے کام اور آسان کردیا ہے ۔ آجکل انٹرنیٹ اور موبائل فون پر نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان بات چیت فیشن بنتی جارہی ہے ۔ اس بات چیت کو دوستی اور دوستی کو محبت میں بدلتے آجکل کے ٹین ایجرز پل نہیں لگاتے ۔وہ یہ سمجھ نہیں پاتے کہ یہ ان کے جسم میں ہونے والی ہارمونل تبدیلیوں کی و جہ سے پیدا ہونے والی کشش ہے ۔ اور کچھ نہیں ۔اصل محبت تو وہ ہوتی ہے جو میچور ایج میں کی جائے ،ایسی عمر جس میں انسان صحیح سوچ سمجھ کیساتھ فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔لیکن ٹین ایجرز کی اکثریت اس قسم کے تعلق کو محبت کا نام دیتی ہیں ۔اس قسم کی ”عارضی محبت” عام طور پر بہت جلد عروج پر پہنچ جاتی ہے ۔ بنا ایک دوسرے کو صحیح طریقے سے سمجھے، جانے پہچانے ، زندگی بھر ساتھ رہنے کی عہد وپیماں ہوجاتے ہیں ۔کچھ مہینے، محبت کے نشے میں سرشار گزرتے ہیں۔ایک دوسرے کی باتیں دل افروز لگتی ہیں، راستے قوس قزاح لگتے ہیں۔محبت کے سوا کچھ اور سوجھتا ہی نہیں۔لیکن کیونکہ ایسے فیصلوں میں دور آندیشی کارفرما نہیں ہوتی اور ٹین ایجرز کے خیالات اور نظریات ہیر سٹائل کی طرح بدلتے رہتے ہیں۔اس لئے یہ” طفلانہ محبت” زیادہ دیر چل نہیں سکتی۔ بہت جلدانہیں ایک دوسرے سے ہزاروں شکوے ہونے لگتے ہیں ۔ وہی پابندیاں بری لگنے لگتی ہیں جو پہلے پہل اُن کو اچھی لگتی تھیں ۔جس کے ایک اچھے فعل کو دیکھ کر متاثرہوکر دل تھما بیٹھے تھے اس کے ایک غلط فعل یا خراب عادت پر سب کچھ ختم کرنے کی ٹھان بیٹھتے ہیں ۔ جلد ہی ٹین ایجرزکی اکثریت کو اپنے فیصلوں پر پچھیتاواہونے لگتا ہے ۔ وہ جان جاتے ہیں کہ اُن کا فیصلہ درست نہیں تھا۔پھر کیا ہوتا ہے، وہ جو چند ماہ قبل ایک دوسرے کو بے پناہ چاہتے تھے ایک دوسرے سے پناہ مانگنا شروع کردیتے ہیں۔لیکن علیحدگی آسان نہیں ہوتی کیونکہ علیحدگی کا یہ فیصلہ بھی جلدبازی اور جذبات پر مبنی ہوتا ہے ۔دل پھر اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا ۔ اگر علیحدگی ہو بھی جائے تو ساتھ گزارے لمحات، آپس میں کیے عہد وپیماں یاد آتے رہتے ہیں ۔ٹین ایجرز کی اکثریت اس قسم کی محبت کے ایسے انجام پر یہ سمجھتی ہے کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوگیا ۔ یوں یہ طفلانہ محبت اکثریت کی زندگی کا روگ بن جاتی ہے ۔بہت سے کیسز میں یہ عارضی محبت یکطرفہ ہوتی ہے۔کچھ لوگ محبوب کو نہیں بھول سکتے، اورکچھ لوگ اپنے ساتھ ہونے والے دھوکے کو، یوں بھولنے اور یاد رکھنے کی یہ کشمکش جاری رہتی ہے ۔یہ کشمکش ٹین ایجرز کو مزید گھٹن کے ماحول میں لے جاتی ہے ۔ محبت میںناکامی ایسی مایوسی کو جنم دیتی ہے کہ ٹین ایجرز سمجھتے ہیں کہ انکے زندہ رہنے کا مقصد ہی نہیں رہا۔اس عارضی اور کچی محبت کا دورانیہ بلا شبہ قلیل ہوتا ہے لیکن اس کا مطلب نہیں کہ اس کو سنجیدہ نہ لیا جائے۔ بچے اس عمر میں بہت حساس ہوتے ہیں ۔اس پر بعد میں آئیں گے کہ اس قسم کی صورتحال سے میں بچوں کیساتھ کیسے نمٹا جائے ، یا انہیں کیسے نارمل لائف کی طرف لایا جائے ۔پہلے دیکھتے ہیں کہ وہ کون سے عوامل ہیں جو کچی عمر کی محبت کو ہوا دے رہے ہیں اور ان سے کیسے نمٹا جائے ۔انٹر نیٹ اور موبائل فون کے بے دریغ استعمال کا ذکر میں اوپر کر چکا ہوں ۔خاص طور پر لیٹ نائیٹ پیکیجز نے ہماری نسل نو کو برباد کردیا ہے ۔پہلے پہل نوجوان لڑکے لڑکیاں مختلف موضوعات پر ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں ،کچھ دن بعد جب کوئی موضوع نہیں بچتا تو وہ ان موضوعات پر بھی بات کرنا شروع کردیتے ہیں جن پر انہیں اس عمر میں بات نہیں کرنی چاہیے ۔ نو عمر لڑکے لڑکیوں کی صنف مخالف سے ایسے موضوعات پر بات چیت کے اثرات انتہائی بھیانک ہوسکتے ہیں ۔گزشتہ سال پنجاب اسمبلی ان پیکیجز کے خلاف متفقہ طور پر قرار داد بھی منظور کر چکی ہے لیکن حکومت اور پی ٹی اے نے ان پیکیجز کے خلاف تاحال کو ئی اقدام نہیں اٹھایا ۔اس ضمن میں حکومت ہی کوئی اقدام اٹھا سکتی ہے ۔ والدین کی اکثریت بچوں کو نہ تو موبائل فون دینے سے انکار کرسکتی ہے اور نہ ہی ان پر سخت قسم کی پابندیاں لگاسکتی ہے ۔ کیونکہ یہ دونوں چیزیں بچوں کے ذہن پر منفی اثرات چھوڑ تی ہیںاوربچے احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ والدین پڑھائی کے ساتھ ساتھ بچوں کو دیگر صحت مندانہ سرگرمیوں میں شامل رکھ سکتے ہیں تاکہ ان کے پاس اس قسم کی سرگرمیوں کے لئے وقت نہ بچے ۔

موجودہ دور میں الیکٹرانک میڈیا نے بھی نوجوانوں کی زندگیوں کے طور طریقے اور خیالات بدلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔الیکٹرانک میڈیا جوکہ گھر گھرپہنچ چکا ہے معلومات کا بہترین ذریعہ ہے لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بیشتر چینلز بیہودہ پروگرامز دیکھا کر معاشرے میں بیگاڑ کا باعث بن رہے ہیں ۔میڈیا کی ماد پدر آزادی بے حیائی پھیلانے اور نوجوان نسل کو بے راہ روی کی طرف مائل کرنے میں اہم کردار ادا کررہی ، حکومت نے غیر ملکی ڈراموں کو نشر کرنے کی اجازت دے کر اس بے حیائی کی بنیاد ڈالی ہے ، ا ب اُن کی دیکھا دیکھی مقامی چینلز نے بھی تمام حدیں پار کر لی ہیں ۔رہی سہی کسر مارننگ شوز نے پور ی کرلی ہے ۔میڈیا پر جاری بے حیائی کا یہ سیلاب سب کچے ذہنوں پر منفی اثرات مرتب کررہا ہے۔اب دو ہی حل ہیں، یا تو حکومت ایسے تمام پروگرامز اور ڈراموں پر پابندی عائد کرے ۔ یا پھر آپ اپنے بچوں کو ایسا موا د دیکھنے سے روکیں ۔ حکومت اس طرح کے پروگرامز ، ڈراموں اور سیگمنٹس پر پابندی لگاتی نظر نہیں آتی اور آپ بھی اپنے بچوں کو ٹی وی دیکھنے سے مکمل طور پر نہیں روک سکتے ۔اگر آپ بچوں پر ٹی وی دیکھنے پر مکمل پابندی لگائیں گے تو وہ اپنے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ پر اس سے بھی بری مویز یا ڈرامے دیکھ سکتے ہیں ، اب تو تھری جی فور جی کے آنے کے بعدغلط سے غلط ویب سائیٹ ان سے ایک کلک کے فاصلے پر ہے ۔وہ اکیلے اپنے کمر ے میں چھپ کر کیا دیکھتے ہیں کیا نہیں اس کا آپ اندازہ نہیں لگا سکتے ۔ ایسی ویب سائیٹس یا مویز جو وہ اکیلے میں دیکھیں گے اس کے اُ ن کے ذہن پرمزید منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔بہتر یہی ہے کہ آپ کسی مہذب چینل کے ڈرامے یا مارننگ شو کا انتخاب کریں ( جو کم نقصان دے ہو ) اور انہیں اپنے ساتھ بیٹھا کر دیکھائیں ناں کہ ان کو زیادہ نقصان دے چیز دیکھنے پر چھوڑ دیں ۔
پہلے اور دور ہوتا تھا ، جوائنٹ فیملی سسٹم ہوتا تھا، بچے والدین کی نظروں سے اوجھل ہو جاتے تو دادا ،دادی ، چچا ، چچی ، ماموں ، ممانی کی نظروں سے نہیں بچ سکتے تھے ۔اگر کوئی بچہ ڈی ٹریک ہو بھی جاتا تو سب مل کر اُس کو سمجھاتے تھے ، سب اُس کی کونسلنگ کرتے تھے ۔لیکن آج جوائنٹ فیملی سسٹم آخری ہچکیاں لے رہا ہے ۔بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں پیچیدگیاں اور غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں اور ان کے بچوں کے لئے پڑھائی کرنے کے لئے ساز گار ماحول دستیاب نہیں ہوتا اس لئے وہ الگ رہنے کو ترجیع دیتے ہیں ۔ سپریٹ فیملی سسٹم والدین اکثریت کی تمام تر توجہ بچوں کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے پر مرکوز ہوتی ہے ۔والدین اپنے بچوں کو جدید دور کی ہر آسائش فراہم کرنے میں مصروف ہیں جس میں عمدہ گاڑی ،قیمتی موبائل، لیپ ٹاپ اور پہننے کے لئے قیمتی ملبوسات لیکن وہ اپنے بچوں کو وقت نہیں دے پارہے ۔میری والدین سے التجا ہے بچوں کو سب سہولتیں دیں لیکن ان پر نظربھی رکھیں ۔ وہ کیا کرتے ہیں؟ کس وقت سوتے ہیں؟ کب جاگتے ہیں؟ کس کس سے ملتے ہیں ؟ اُن کے ساتھ ایک خاص درجے کی دوستی رکھیں ؟ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ اُن کا رجحان کس طرف ہے؟اُن کی زندگی کا گول کیا ہے؟وہ مستقبل میں کیا کرنا چاہتے ہیں؟اُن کا اعتماد حاصل کریں۔ مثبت سرگرمیوں میں اُن کی حوصلہ افزائی ، منفی سرگرمیوں میں حوصلہ شکنی کریں ۔ اُ ن پر گھر کے کا موں کے حوالے سے بھی ایک مناسب بوجھ ڈالیں تاکہ اُن میں احساس ذمہ داری پیدا ہو اوروہ فضولیات کے لئے وقت نہ بچا سکیں ۔ پھر بھی اگر اس طرح کی صورتحال درپیش ہوتی ہے کہ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے بچے کی روٹین مختلف ہوگئی ہے ، یا اس نے کچھ چھپانا شروع کردیا ہے ،اس کے مزاج میں بے چینی اور اضطراب کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ تو کھوجنے کی کو شش کریں کہ معاملہ کیا ہے ؟ وہ کسی کی محبت میں تو نہیں گرفتار ہوگیا ۔ اگر ایسا ہے تو جاننے کی کوشش کریں کہ تعلق کتنا گہرا ہے ۔ ایسی صورت میں بچے کو کونسلنگ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ کونسلنگ کون کرسکتا ہے ؟معاشرہ ، دوست، استاد یاوالدین ، ؟؟
یہ بات تسلیم کرنے میں کوئی جھجھک نہیں ہونی چاہیے کہ ہمارا معاشرہ بے حسی کو حدوں کو چھو رہا ہے ۔ دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ قریبی رشتے بھی ایک ایک کرکے بے حس ہوتے جارہے ہیں ۔ لوگوں کو بس بات چاہیے ہوتی ہے ، جس پر وہ اپنی مرضی کی کہانی گھڑ سکیں ۔پھر تبصرے برپا ہوتے ہیں ۔ کھل کر تنقید ہوتی ہے۔ چاہے قریبی سے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو ، طعنہ باز ی عروج پر ہوتی ہے ۔ایسی صورت میں کم عمر بچے یا بچی کی چھوٹی سی غلطی انہیں الزمات کے جہنم میں دھکیل دیتی ہے ۔معاشرہ کونسلنگ کے بجائے ایسا انتقام لیتا ہے اور ایسی ایسی من گھڑت کہانیاں سامنے آتی ہیں کہ مجبور ہوکر بچے انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبو ر ہوجاتے ہیں ۔اور اس طرح کے کیسز میں جہاں بچوں کی عمر کم ہو ، وہاں اُن کے سوچنے سمجھنے کی قوت معدوم ہوجاتی ہے ۔ پیار محبت ویسے چیز ہی ایسی ہے جو بڑے بڑوں کی سوچنے کی قوت ختم کردیتی ہے ۔ بچے تو پھر بھی بچے ہیں ۔اُن سے غلطی سرزرد ہوجانا بڑی بات نہیں ۔یہاں میں ایسے جذبات کا ہرگز دفاع نہیں کررہا ۔ میں اس بات کا بہت حد تک قائل ہوں کہ محبت ایک خاص عمر میں پہنچنے کے بعد کرنی چاہیے ۔ لیکن محبت جذبہ ہی ایسا ہے کہ خود بخود دل میں فروغ پاتا ہے ۔محبت آندھی ہوتی ہے یہ کسی بھی عمر میں کسی سے بھی ہوسکتی ہے ۔اور موبائل فون، انٹر نیٹ اور دیگر تمام سہولیات کے بے دریغ استعمال نے اس طرح کی غلطیوں کے امکانات کو بڑھا دیا ہے ۔ اس طرح کی صورتحال میں عزیز وا قارب ،رشتہ داروں ،محلہ داروں اور پڑوسیوں کو احتیاط سے کام لینا چاہیے ۔ غلطی تو کسی کے بھی بچے یا بچی سے سرزرد ہوسکتی ہے ۔ ایسی صورت میں طعنے بازی سے اجتنا ب کرنا چاہیے ۔ کیا پتہ وہ لڑکا یا لڑکی اپنی غلطی کی وجہ سے پہلے ہی نادم اور دل گرفتہ ہو۔آپ کی طعنے بازی اورجملے بازی اسے انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور کرسکتی ہے ۔دوسروں کے بچوں کو بھی اپنے بچوں کی طرح ٹریٹ کریں ، ضرور سوچیں کہ اگر اس بچے کی جگہ آپ کا بیٹا یا بیٹی ہوتی تو بھی آپ یہی کرتے ؟
مخلص دوست ایک ایسا آئینہ ہوتا ہے جس میں انسان اپنی خوبیاں اور خامیاں دیکھ سکتا ہے ۔محبت کے کیسز میں سب سے بڑا رازدار دوست ہوتا ہے ۔لڑکا یا لڑکی جس کیفیت سے

بھی گزر رہے ہوں اپنے دوست سے سب کچھ شیئر کرتے ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کم عمری میں دوستی کیسے ہوتی ہے ؟ساتویں آٹھویں میں دوست کیسے بنتے ہیں ؟ ایسی عمر میں زیادہ تر دوستیاں چہرے دیکھ کر وجود میں آتی ہیں ، یا وہ لوگ جن کے ساتھ آپ کے بچے زیادہ وقت گزارتے ہیں وہ ان کے دوست بن جاتے ہیں ۔کیوں کہ اس عمر میں بچوں کو دوستی کے معیار کا پتہ نہیں ہوتا ۔ بغیر جانچ پرکھ کیے کسی کو بھی دوست بنا لیتے ہیں ۔ اب کیو ں کہ وہ دوست ان کا بہترین رازدار ہوتا ہے ۔اگر وہ اچھا ہوا ، اُس کا راز سنبھال سکا ، اُس کو بہتر مشورہ دے سکا ۔ اس غیر معمولی کیفیت میں اُس کا ساتھ دے سکا، اُس کی کونسلنگ کر سکا توصورتحال مختلف ہو سکتی ہے، آپ کا بچہ اس کیفیت سے نکل سکتا ہے جواسے انتہائی اقدام کی طرف لے جاتی ہے ۔ لیکن اگر رازنہ سنبھال سکا۔ دوسروں کے ہاتھوں کھلونا بن گیا ۔ اچھی کونسلنگ نہ کر سکا ، یا صحیح مشورہ ہی نہ دے سکا ۔ تو آپ کا بچہ اس دلدل میں پھنستا چلا جائے گا جو اس کے اذیت ناک انجام کا باعث بن سکتی ہے ۔ کیونکہ والدین ،بڑے بہن بھائیوں، اوراستاد کے بعد آخری آسرا دوست ہوتا ہے ۔ اگر دوست نے بہتر کونسلنگ کرلی تو ندی پار ہوگئی اگردوست بہتر کونسلنگ نہ کرسکا تو آپ کے بچے کو ڈوبنے سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔ کیونکہ معاشرہ تواچھے بھلے نوجوانوں کو گمراہ کر لیتا ہے ۔جو پہلے سے بھٹکے ہوں وہ معاشرے کے ہتھے چڑھ جائیں تواذیت ناک انجام سے نہیں بچ سکتے۔
والدین کو چاہیے کہ بڑھتی عمر کیساتھ ساتھ بچوںکی کونسلنگ کریں ۔ بچوں کیساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں ، انہیں ہفتے میں ایک بار ضرور باہر گھومانے پھیرانے لے جائیں، اپنے بچے کو براہ راست ٹائم دیں ،اس کیساتھ بات چیت کریں، ایک دوسرے کی کمپنی کو انجوائے کریں اور اپنے خیالات اور احساسات شیئر کریں اور بچے کے احساسات اور خیالات جاننے کی کوشش کریں ۔اگر بچہ بات کرنے میں ہچکچا رہا ہے تو خود اپنے دن کے معمولات شیئر کریں ، پھر اُس سے پوچھیں ۔ٹین ایج میں پہنچنے سے پہلے ہی دوستانہ انداز میںبچوں کو کچھ پابندیاں اپنانے پر راضی کرلیں تاکہ بعد میں مسئلہ نہ ہو ۔شروع سے ہی اپنے اعمال ، اخلاق اور الفاظ کے ذریعے بچوں میں رول ماڈل بنیں ۔اگر انہیں شروع سے ہی ایک اچھا رول ماڈل دستیاب ہو تو ٹین ایج میںاُن سے غلط فیصلوں کے امکانات کم ہونگے ۔اگر بچہ ان حدود و قیود کی پابندی کرتا ہے ، دیگر سرگرمیوں کو آپ کے بتائے ہوئے طریقے سے انجام دیتاہے ، اس کی سرگرمیاں متاثر نہیں ہورہیں توبے جا روک ٹوک نہ کریں۔والدین کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ٹین ایج میں بچوں میں جسمانی اور ذہنی طور پر بہت سی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ۔ان تبدیلیوں اور جدید ٹیکنالوجی کے منفی استعمال کے باعث ٹین ایجرز کی اکثریت صنف مخالف سے دوستی یا عارضی محبت کارشتہ جوڑ لیتی ہے ۔ اگر اسی طرح کی دوستی یا محبت کی تصدیق ہوجائے تو والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کیساتھ نرمی سے بات کریں ۔ انہیں ڈارنے دھمکانے کی کوشش نہ کریں ۔ سب سے پہلے ان کی ذہنی کیفیت کو سمجھیں ان کا بچہ کس کیفیت سے گزر رہا ہے ۔اندازوں پر ہر گز نہ جائیں، نہ ہی اندازوں کی بنیاد پر فیصلے کریں ،مکمل مشاہدہ کریں ، بچے کے دوستوں ، استاد ، دوسرے بہن بھائیوں سے معلومات لیں ۔ ایسی صورتحال میں کم عمر بچے بہت جذباتی ہوتے ہیں ۔والدین کی ذرا سی بے احتیاطی اورغصہ اُن کے ذہن پر منفی اثرچھوڑتا ہے۔ وہ والدین سے نہ صرف شیئر کرنا چھوڑ دیتے ہیں بلکہ ایک سرد جنگ بھی شروع جاتی ہے جس کا علم والدین کو عموماََنہیں ہوتا ۔والدین کو چاہیے بچے کو پیار سے سمجھائیں، اور اس کوسنھبلنے کے لئے وقت دیں ،wait and see کی پالیسی پر عمل کریں،اگر” عارضی محبت” ہوئی تو ان کا بچہ خودبخود ایک خاص عمر کے بعد اس سے نکل آئے گا ۔ہاں اگر یہ عارضی محبت یکطرفہ ہوئی تو تعلق ٹوٹتے ساتھ ہی بچے کو زیادہ توجہ کی ضرورت درکار ہوگی ۔ کیونکہ ایسے میں بچے کے جذبات بری طرح مجروع ہوتے ہیں ۔وہ ذہنی کٹھن کا شکا ر ہوجاتے ہیں ۔ ایسی صورت میں والدین اگر بچے کے قریب ہیں تو وہ بچے کو زیادہ اچھے طریقے سے سنبھال سکتے ہیں۔والدین کو سمجھنا چاہیے کہ جیسے کچی عمر میں دیکھے جانے والے خواب معدوم نہیں ہوتے اسی طرح کچی عمر میں فروغ پانے والی محبت بھی دل کے کسی نہ کسی کونے میں زندہ رہتی ہے ۔ اگر”محبت دوطرفہ ہے اور سچی اور گہری” ہے تو بچے حد سے زیادہ حسا س ہوتے ہیں ۔ وہ کسی قسم کا انکار سننے ، یا پابندی سہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے ۔والدین کیطرف سے لگائی جانے والی سخت پابندیاں انہیں انتہائی اقدام ا ٹھانے پر مجبور کرسکتی ہیں ۔والدین کو بچوں کیساتھ کبھی تضحیک امیز رویہ نہیں رکھنا چاہیے ، اور نہ ہی ان کے احساسات اور جذبات کا مذاق اڑانا چاہیے ۔غلط معاملات پر اظہار تشویش بھی کریں اور پاس بیٹھ کر سمجھائیں بھی ، لیکن اٹھتے بیٹھے تنقید کا نشانہ نہ بنائیں اس سے ان کے احساسات اور جذبات بری طرح مجروح ہونگے ۔والدین کو چاہیے کہ بچوں کی پسند نا پسند کو اُن کی تعلیمی کارگردگی سے مشروط کریں۔اُن کو واپس اصل مشن کی طرف لانے کی کوشش کریں ۔تعلیم مکمل ہونے سے پہلے بغیر کسی مجبوری کے بغیر بچوں کیساتھ شادی کے معاملے پر بات ہی نہ کریں۔ اگر تعلیم مکمل ہونے تک بچے اپنی پسند سے شادی پر بضدہیں تو والدین کو غور کرلینا چاہیے ۔گھر پر والدین اور سکول پر استاد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ بچوں کی سرگرمی پر نظر رکھے ۔ انہیں کسی منفی سرگرمی میں ملوث پائے تو ان کو سمجھائے ۔ ان کی کونسلنگ کر ے ۔ خاص طور پر کو ایجوکیشن تعلیمی اداروں میں اس طرح کے کیسز کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ۔ ان تعلیمی اداروں کی انتظامیہ تو بڑے لوگوں کے بچوں کے خلاف کاروائی سے اجتناب کرتی ہے ۔یوں ایک مچھلی پورے تلاب کو گندہ کرلیتی ہے ۔ ایسے میں استاد کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں ۔ کہ وہ بچوں پر نظر رکھے اور والدین کو باخبر کردے ۔والدین کو بھی وقتاََ فوقتاََ سکول کا وزٹ کرنا چاہیے اور انتظامیہ اور اساتذہ سے بچے کے بارے میں رپورٹ لینی چاہیے ۔والدین اور اساتذہ کی کورڈینیشن اور رہنمائی کم عمر کڑکے اور لڑکیوں کو گائیڈکرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔کہ کس طرح درست سمت سفر کریں ، کس طرح توانائیوں کو مثبت انداز سے صرف کریں اور معاشرے میں اپنا نام اور مقام بنائیں ۔