پنجاب کے دومحکموں کے جوابات میں تضاد ہے،اسٹون کرشنگ کیس میں سپریم کورٹ برہم 

اسلام آباد( آن لائن )سپریم کورٹ نے اسٹون کرشنگ اور درختوں کی کٹائی سے متعلق ازخودنوٹس کیس چیف سیکرٹری پنجاب، آئی جی پنجاب، سیکرٹری مائنز کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پنجاب کے دومحکموں کے جوابات میں تضاد ہے، متعلقہ افسران پیش ہوکراصل معاملے سے آگاہ کریں، عدالت عظمی کی جانب سے ڈبلیوڈبلیوایف اسلام آباد آفس کونوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا گیا ہے کہ معاملہ پر ڈبلیو ڈبلیو ایف عدالت کی

معاونت کرے۔کیس کی سماعت جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی، دوران سماعت جسٹس شیخ عظمت سعید نے استفسار کیا کہ مارگلہ پہاڑیوں پرسارے درخت کاٹ دئیے یا کچھ بچ بھی گئے، اس پر پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ معاملہ پر رپورٹ جمع کروادی ہے، پہاڑوں میں بلاسٹنگ رک چکی ہے جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ آپ نے پولیس رپورٹ پر اعتبار کرلیا؟ پاکستان میں توکچھ ہوہی نہیں رہا جبکہ درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ پہلے بلاسٹنگ دن کواب رات کے وقت ہوتی ہے، اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ہمارے ملک میں وطیرہ بن چاہے کہ عدالت کے ساتھ سچ نہیں بتانا، افسران نے قسم کھا رکھی ہے عدالت کو کوئی کچھ بتائے گا ہی نہیں، جسٹس سجاد علی نے ریمارکس دیئے کہ رپورٹ کے مطابق ادارے بلاسٹنگ روکنے کی کوشش کررہے ہیں، جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا پنجاب کامحکمہ پولیس اور مائننگ ایک دوسرے سے متضاد رہورٹس جمع کروائیں گے، ایک محکمہ کہتابلاسٹنگ رک چکی ہے جبکہ دوسراکہتاہے بلاسٹنگ ہو رہی ہے، کیادونوں الگ ملک کے محکمے ہیں، ہم عاجز آچکےہیں آپ بتائیں ہم کیا کریں، دوسری جانب عدالت نے سہالہ کہوٹہ روڈ کی توسیع میں درختوں کی کٹائی کامعاملہ پر ڈویژنل فاریسٹ آفیسرکوریکارڈ سمیت طلب کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ عدالت کو شیشم کے فی درخت کٹائی کی قیمت سے آگاہ

کیاجائے، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ لگتاہے شیشم کے درخت اونے پونے داموں بیچے گئے، 781 درخت ہیں ان کاٹھیکہ دیاکیسے گیا، درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ سہالہ کہوٹہ روڈتوسیع کے دوران شیشم کے درختوں کی کٹائی کاٹھیکہ لیاتھا، مقامی پولیس نے کٹائی سے روک رکھا ہے، ہم نے درختوں کی کٹائی کاٹھیکہ 59لاکھ میں لیا، عدالت عظمی کی جانب سے مارگلہ ہلز پارک زون تھری میں ہاوسنگ اسکیم کے معاملہ پر سی ڈی افسران کوریکارڈ

سمیت طلب کرلیا جبکہ عدالت نے سی ڈی سے وکیل پیش نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ کیاوکیل کرنے کے لیے سی ڈی اے کوچندہ اکٹھاکرکے دیں، یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اس کاعلاج کرناپڑے گا بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت سماعت 18اکتوبرتک ملتوی کردی.