خشک خوراک اور بھنے چنے ملے،گاڑی نجی بینک سے لیز پر تھی، ابتدائی رپورٹ میں انکشاف

کراچی(نیوز ڈیسک) کراچی میں اسٹاک ایکسچینج پردہشتگردوں کے حملے کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے۔جس میں کئی انکشافات بھی سامنے آئے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ دہشتگردوں سے اسلحہ،دستی بم اور خشک خوراک ملے ہیں۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق دہشتگردوں سے بھنے ہوئےچنے بھی ملے۔دہشت گردوں سے برآمد گاڑی 1300سی سی اورلوکل میڈ ہے،جو نجی بینک سے لیزپر لی گئی تھی۔گاڑی نجی بینک کےنام پررجسٹرڈ ہے۔گاڑی کی نمبرپلیٹ پر بی اے پی 629 لکھا ہے۔ دہشتگردوں کےزیر استعمال گاڑی کی نمبرپلیٹ جعلی نکلی ہے۔انجن نمبر سے گاڑی ٹریس کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

علاوہ ازیں دہشتگردوں کی گاڑی اور اسلحہ سے فنگرپرنٹس حاصل کر لیےگئے ہیں۔سیکیورٹی اداروں نےدہشتگردوں کےآنےکےراستوں کاروٹ بنانا شروع کردیا۔ایڈیشنل آئی جی کے مطابق دہشتگردوں کی عمریں 25 سے 35 سال کے درمیان تھیں۔دہشتگرد قانون نافذکرنے والے اداروں کی کارروائی میں مارے گئے۔انہوں نے مزید بتایا کہ دہشتگردوں سےکلاشنکوف،دستی بم اوررائفلز ملی ہیں۔ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ دہشتگرد پارکنگ ایریا سےاندر آئے۔ پہلےدہشت گرد کو اندر گھستے ہی مار دیا گیا تھا۔دہشتگردوں کی گاڑی تحویل میں لے لی گئی۔پولیس اہلکار اور سیکیورٹی گارڈ بھی واقعہ میں شہید ہوئے۔واضح رہے آج صبح پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر کاروباری ہفتے کے پہلے روز دہشت گردوں نے دستی بم کے ساتھ حملہ کیا، جسے اسٹاک ایکسچینج میں تعینات پولیس اہل کاروں اور سیکورٹی گارڈز نے ناکام کرتے ہوئے چاروں حملہ آوروں کو مار دیا، واقعے میں سب انسپکٹر شاہد اور 4 سیکورٹی گارڈز سمیت 6 افراد شہید ہو گئے جب کہ 3 اہل کار زخمی ہوئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ جوابی فائرنگ میں چار دہشت گرد مارے گئے ہیں، حملہ آوروں نے 10 بج کر 5 منٹ پر پانچ سے 7 منٹ تک فائرنگ کی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا، جب کہ زخمیوں کو سِول اسپتال کراچی منتقل کیا گیا، ڈاکٹر خادم قریشی کا کہنا تھا اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ فوٹیج کے مطابق دہشت گرد نیلے رنگ کی کرولا کار میں آئے، چار دہشت گردوں نے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہوئے فائرنگ کی، تاہم سیکورٹی اہل کاروں نے جوابی کارروائی میں ایک دہشت گرد کو گیٹ پر ہی مار دیا اور دہشت گردوں کو

عمارت کے اندر داخل نہیں ہونے دیا۔ دہشت گردوں سے برآمد ایمونیشن کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ وہ بڑی کارروائی کی غرض سے آئے تھے، ان کے پاس جدید ہتھیار، رائفل، کلاشن کوف، اور ہینڈ گرینڈز موجود تھے، تاہم بہادر سیکورٹی گارڈز نے ان کا حملہ ناکام بنایا۔وفاقی وزیر داخلہ اعجازشاہ نے کہا ہے کہ چند دہشت گردوں نے اسٹاک ایکس چینج پر حملہ کیا اور تمام چار دہشت گرد مارے جاچکے ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی تحقیقات کا آغاز ہوگیا ہے اور جلد ماسٹر مائنڈ تک جلد پہنچ جائیں گے۔وزیر اعظم عمران خان نے کراچی اسٹاک ایکس چینج پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ

سیکیورٹی اداروں نے بہادری سے دشمن کا مقابلہ کیا اور حملے کو ناکام بنایا، پوری قوم کو اپنے بہادر جوانوں پر فخر ہے، شہداکے لواحقین سے دلی ہمدردی اور زخمیوں کی صحت یابی کیلئےدعا گو ہوں۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ ملکی سلامتی اور معیشت پر حملے کے مترادف ہے، وبائی صورتحال کے پیش نظر ملک دشمن عناصر ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ نے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید چوکس رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے واقعے کی مکمل تفصیلی انکوائری کر کے رپورٹ مانگ لی ہے۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے آئی جی سندھ سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے، انہوں نے کہا کہ اسٹاک ایکس چینج پر حملہ پاکستان کی معیشت پر حملہ ہے ، اسٹاک ایکس چینج کو سیکیورٹی فراہم کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ حملہ آوروں کے پاس بھاری اسلحہ تھا، حملہ آوروں نے پاکستان اسٹاک ایکس چینج کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی،جوابی کارروائی میں 4 حملہ آور مارے گئے، شرپسند عناصر کو کراچی کا امن ہضم نہیں ہوتا، وزیراعلیٰ سندھ نے پورے علاقے میں سرچ آپریشن کے احکامات دیئے ہیں۔