وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں بڑا سیاسی دھماکہ کردیا،اپوزیشن ہکابکا رہ گئی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی میں مالی سال 21-2020 کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ منظور کرلیا گیا۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے بھی شرکت کی۔قبل ازیں اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سارے پاکستان کو نظر آرہا ہے کہ وزیراعظم کے پاس صرف 2 آپشنز ہیں، وزیراعظم غلطی کا اعتراف کریں اور سب کو ساتھ

لیکر چلنے کا اعلان کریں یا استعفی دیں اور گھر جائیں۔قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم نے ادویات پر نوٹس لیا تو وہ مہنگی ہوگئیں، وزیراعظم نے آٹا، چینی پر نوٹس لیا تو وہ مہنگے ہوگئے۔بلاول کا کہنا تھا کہ بہتر ہے وزیراعظم اپنے آپ کو قرنطینہ میں رکھیں اور کسی بھی چیز پر نوٹس لینا بند کردیں۔انہوں نے کہا کہ بجٹ پاس ہونے سے پہلے ہی عوام پر پیٹرول بم گرا دیا گیا جب کہ کے الیکٹرک کراچی کے عوام کا خون چوس رہی ہے۔چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ آج راجہ پرویز اشرف بری ہو گئے جب کہ جہانگیر ترین لندن میں مزے کر رہے ہیں لیکن ان کا وزیراعظم شوگر کمیشن کا رونا رو رہا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ان سب کو اور ن لیگ کو بھی معافی مانگنی چاہئے، وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو شہید نہیں کہہ سکتے لیکن اسامہ بن لادن کو شہید کہتے ہیں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کے مطالبے پر کہا تھا کہ عمران خان کو عوام کا اعتماد حاصل ہے وہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں خواجہ آصف کو یقین دلاتا ہوں کہ کورونا کا شکار کسی رکن کو ایوان میں آنے کی اجازت نہیں دی نا ہم اتنے غیر ذمہ دار ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں کوئی مایوسی نہیں ہے یہ ایک سالانہ فنانس بل ہے جو ہر سال پیش کیا جاتاہے اور ان غیر معمولی حالات میں جس طرح ایوان چلایا گیا اور جن افراد نے اس کی سربراہی کی، مختلف جماعتوں کی جانب سے مختص کردہ وقت سے کہیں زیادہ تجاوز کرتے ہوئے اپوزیشن میں سے جس رکن نے بات کرنا چاہی انہیں موقع دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ

ساری کارروائی بہت اچھے طریقے سے آگے بڑھی ہے اور میں کورونا کا شکار کسی رکن کو ایوان میں بلانے کی تردید کرتا ہوں۔وزیر خارجہ نے اپوزیشن سے کہا کہ ‘کہا جاتا تھا کہ ان کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی، آج دیکھ لیں عمران خان کا ایک ایک ٹائیگر یہاں موجود ہے’۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سب عمران خان اور اس کے نظریے کے ساتھ کھڑے ہیں، حکومتوں کی پرواہ نہیں نظریے کا دفاع کریں گے، سودے بازی نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ آج پوری قوم سن لے کہ عمران خان ایک مقصد کے لیے آیا ہے، انہوں نے کہا کہ میں اپنی اتحادی جماعتوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ سو جتن

کرلیے گئے لیکن وہ چٹان کی طرح اپنی جگہ قائم ہیں اور رہیں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سودا کرنے نہیں آئے، سوداگر نہیں ہیں نظریے کا سودا نہیں کریں گے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز پریس کانفرنس میں اور آج ایک پارلیمانی رکن نے کہا کہ وزیراعظم استعفیٰ دے دیں، وزیراعظم استعفیٰ کیوں دیں عمران خان کو ایوان کا اعتماد حاصل ہے، پاکستانی عوام نے انہیں مینڈیٹ دیا ہے وہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ بھی کہا گیا کہ نوٹس لینا بند کردیں یہ کرپشن کریں، منی لانڈرنگ کریں اور ہم نوٹس نا لیں، عمران خان تو آئے ہی نوٹس لینے کے لیے ہیں۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں

نے کہا کہ اپوزیشن نے جب بھی مثبت بات کی ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا لیکن آج پہلی مرتبہ دیکھا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے اراکین پاکستان مسلم لیگ(ن) کے دوستوں کو معافی مانگنے کا کہہ رہے ہیں اور وہ ڈیسک بجارہے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ بجٹ پر بحث ہوچکی مزید بحث کی گنجائش نہیں فنانس بل پیش ہوچکا ہے اس پر ووٹنگ کروائیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس اکثریت ہے تو وہ اس فنانس بل کو مسترد کردیں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔