نوجوان کامیابی کے لئے کیا کریں ؟؟؟

اللہ تعالی نے پاکستان کوایسے خوبصورت نظاروں سے زینت دی ہے کہ آنکھ دیکھتی ہے تو دھنگ رہ جاتی ہے ۔یہاں کی دلکش اور حسیں وادیاں اپنی خونصورتی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں ۔انہی خونصورت وادیوں میں سے ایک وادی گلیات ہے ۔ یہ وادی اپنی بے پناہ خوبصورتی ،ان گنت جھرنوں ،چرا گاہوں،گھنے جنگلات ،ندیوں اور قدرتی پارکوں کی وجہ سے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے ۔ڈونگا گلی وادی گلیات کا ایک خوبصورت سیاحتی

مقام ہے جو سطح سمندر سے 8200 فٹ بلندی پرواقع ہے ۔ڈونگا گلی میں مکشپوری ہائیکنگ ٹریک ہے۔ یہ کیمپنگ اور ہائیکنگ کے شوقین افراد کے لیے مثالی مقام تصور کیا جاتا ہے۔گزشتہ دنوں ایک نجی فلاحی تنظیم ”پازیٹیو پاکستان ” نہ یہاں پر الوندی لیڈر شپ کیمپ کا انعقاد کیا ۔ اس خوبصور ت مقا م پر لیڈرشپ کیمپ کے انعقاد کا مقصد نوجوانوں کو مشینی زندگی کی مصروفیات سے نکال کر خوبصورت پہاڑوں کے دامن اور فطرت کی گود میں بٹھا کر اُن کی کردار سازی اور قیادت کے اوصاف پیدا کرنا تھا ۔”الوندی ”ایران کی ایک پہاڑی کا نام ہے ۔ علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں اس کا ذکر بلند ہمتی ، ثابت قدمی اور مظبوطی کے معنوں میں کیا ہے ۔ پازیٹیو پاکستان ہر سال یہ کیمپ منعقد کرواتی ہے جس میں نوجوانوں کو عزم و ہمت، پختگی ،بلند فکری اور مثبت فکر و عمل کے حوالے سے تربیت دی جاتی ہے ۔اس سال مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے 90 سے زائد نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں نے اس دو روزہ لیڈر شپ کیمپ میں شرکت کی۔ہم اسلام آباد سے براستہ مری ڈونگا گلی پہنچے ۔ ڈونگا گلی پہنچ کر کیمپ کے شرکا ء کا سامان بس سے اتارا گیا ۔یہاں سے ہی شرکاء کی بلند ہمتی اور حوصلے کا امتحان شروع ہو گیا تھا کیونکہ انہیں اپنے اپنے سامان کے ساتھ کیمپنگ کا سامان ”سلیپنگ بیگ اور رک سیک ” بھی اٹھا کر ہائیکنگ ٹریک کو سر کرنا تھا، ایک ایسا ٹریک جس کے بارے میں مشہور تھا کہ یہاں بڑے سے بڑے اتھلیٹ بھی چکرا

جاتے ہیں۔ڈونگا گلی سے مشکپوری ٹاپ تک کل 4 کلو میٹر کی ہائیکنگ تھی ۔ راستے میںایک درخت پر لگے بورڈ پر ماحول کو صاف رکھنے کے حوالے سے خوبصورت عبارت درج تھی ” جس بیگ میں بسکٹ اور پانی لائے تھے اسی میں ریپر اور خالی بوتل واپس دیکھ کر لے جانا مشکل کام تو نہیں ۔ کافی دیر کی ہائیکنگ کے بعد تھکن زیادہ ہوگی تو راستے میںایک مقامی بزرگ سے ملاقات ہوئی ۔پوچھا ” بابا کتنا راستہ باقی ہے؟” جواب ملا ” چلتے جائو

گے تو جلدی پہنچ جائو گے ، بیٹھ گئے تو کل پہنچو گے ۔ سو ہم نے بزرگ کے مشورے پر عمل کیا ، کچھوئے کی رفتار سے ہی لیکن چلتے رہے ۔کچھ تو ٹیم لیڈرز حوصلہ بڑھاتے رہے اور کچھ راستے میں کی جانیوالی فوٹوگرافی ہمارے لئے آکسیجن کا م دیتی رہی ۔آڑھائی تین گھنٹے کی ہائیکنگ کے بعد جب ہم مشکپوری ٹاپ کر پہنچے تو تھکن سے بدن چُور تھا لیکن نظروں اور دلوں پر سرور تاری کردینے والے نظاروں نے ہمارے اندر نئی جان ڈال دی تھی ۔یہ نظارے یقیناََ کسی خواب سے کم نہ تھے۔

تیمم کے بعد سب نے باجماعت نماز ادا کی ۔ لیڈر شپ کیمپ کا آغاز تعارفی تقریب سے ہوا ۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھنی والی انگلش لٹریچر کی طالبہ سحرش کے الوندی کے لئے کہے گئے اشعا رنے تقریب کو چار چاند لگا دیے ۔ اشعار کچھ یوں تھے
گل تو اس خاک داں سے آتے ہیں
رنگ ان میں کہاں سے آتے ہیں
تم بھی شاید وہیں سے آئے ہو
اچھے موسم جہاں سے آتے ہیں

شام ہونے سے قبل ہی سفید بادلوں نے مشکپوری ٹاپ اور ارد گرد کو گھیرے میں لے لیا ۔رینگتے بادلوں کے اس خوبصورت جھرمٹ نے ہمیں اپنے سحر میں جکڑ لیا تھا۔موسم کی اس انگڑائی کے ساتھ ساتھ الوندی کیمپنگ کی سرگرمیاںبھی جاری و ساری تھیں۔ محسن شہزاد اور ان کے دوست ذیشان کچھ رضا کاروں کی مدد سے کیمپ لگانے میں مصروف عمل تھے ۔حنان بسرا اور ان کی ٹیم نے کچن کے انتظامات سنبھالے ۔عمیر رضا ، ولید حسن اور شہباز

پانی کا انتظام کرنے قریب کے چشمے کی طرف روانہ ہوگئے ۔
رات کو بون فائر کی محفل کا اہتمام کیا گیا تھا ۔یوں تو یہ شعر و شاعری اور لطیفوں سے بھرپور محفل تھی لیکن ہوا کے رُخ کیساتھ سمت بدلتے دھوئیں نے یہاں بھی بلند ہمتی کا خوب امتحان لیا۔رات گہری ہونے کے ساتھ ساتھ ہوا کی شدت میں بھی اضافہ ہورہا تھا ۔جو لوگ آرگنائزرز کی ہدایات کے مطابق شال اور جیکٹ ساتھ لائے تھے وہ تو کسی حد تک سردی سے محفوظ تھے ۔ جو یہ سامان ساتھ نہ لائے تھے سردی سے ٹھٹہر رہے تھے ۔بون فائر ان کسی حد

تک اُن کو گرم رکھے ہوئے تھی ۔رائے گئے تکوں اور گرما گرم چائے نے محفل کا رنگ دوبالا کردیا ۔محفل کے اختتام پر سب نے اپنے اپنے کیمپوں کا رخ کیا ۔آرگنائزرز کی دو ٹیمیں بنائیں گئیں تھیں جو آدھی آدھی رات حفاظت پر معمور رہیں ۔سلیپنگ بیگ کم ہونے کی وجہ سے میں نے اور سفیر کشمیر نے ایک سلیپنگ بیگ میں رات گزاری ۔سفیر کشمیر کا اصل نام سفیر ہے ۔ کیڈٹ کالج ججہ میں فزکس کے لیکچرارہیں ۔ ان سے میری دوستی اسی لیڈر شپ

کیمپ کے دوران ہوئی تھی ۔ہم نے جیکٹ ، شال ، جرابیں سب کچھ پہن رکھا تھا پھر بھی سردی لگ رہی تھی۔ رات ہوا اتنی شدت سے چل رہی تھی یوں لگ رہا تھا کہ ابھی خیمہ اڑا لے جائے گی ۔
صبح پرندوں کے چہچہانے کی آواز سے ہی آنکھ کھل گئی تھی ،لیکن سردی کی وجہ سے خیمے سے باہر آنے میں دیر لگی ۔سورج نے مشرقی اوٹ سے جھانکتے ہوئے اپنی کرنیں بکھیرنا شروع کیں اور سردی کی شدت میں کمی واقع ہوئی تو ہم بھی خیمے سے باہر نکل آئے۔خاموش، پرسکون اورآلودگی سے پاک کھلی مطہر آب و ہوا میں الگ

ہی راحت کا احساس ہورہا تھا ۔
دن بھر کے پروگرامز میں جن میں عمیر رضا ، صدر پازیٹو پاکستان عابد اقبال کھاری کی اقبا ل اور سابق امیدوار اسمبلی چوہدری ساجد اقبا ل کی ٹریننگز شامل تھیں۔ عمیر رضا نے پہاڑوں اور قدرتی مناظر کی اہمیت پر اسلامی تعلیمات کے ذریعے روشنی ڈالی ۔صدر پازیٹیو پاکستان عابد اقبال کھاری نے اقبال کی شاعری کے حوالے سے نوجوانوں کے کردار پر روشنی ڈالی ۔ سابق امیدوار اسمبلی چوہدری ساجد اقبال نے قرآن پاک کی تعلیمات کی روشنی میں روزمرہ معاملات پر کھل کر بات کی ۔اس کے علاوہ شرکا ء کو مختلف گروپس میں تقسیم کرکے اُن کے کے لئے

activity area مقرر گیا گیا تھا ۔ان گمیزمیں خاموش ترتیب، سب سے لمبی قطار بنانا ، باسکٹ بال گیم ، دو پولز کے درمیان دوڑ کا مقابلہ اور دیگر سرگرمیاں شامل تھیں ۔ہر نئی گیم لئے ہر ٹیم کے نئے قائد کا انتخا ب ہوتا ، یوں سب ٹیم ممبرز کو باری باری قیادت کے جوہر دیکھانے کا موقع فراہم کیا جاتا رہا۔ ممبران کی قائدانہ صلاحیت ، فیصلہ ساز ی اور مثبت رویوں کا بغور جائزہ لینے کے لئے سرپرست مقرر کیے گئے تھے ۔ان سرگرمیوں کے آخر میں بہترین ٹیم ، بہترین قائد کے ناموں کے اعلانا ت ہوئے ۔ دیگر ٹیموں ، ٹیم لیڈرز اور ممبران کے پلس اور مائنس پوائنٹس کو سب

کے سامنے رکھا گیا ۔ یوں تمام شرکاء کو خود احتسابی کا موقع فراہم کیا گیا ۔اس کے بعد سب سے اہم اسیشن سب کو اپنے اپنے تجربات سے آگاہ کرنے سے معتلق منعقد ہوا ۔بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے تجربات سے متعلق آگاہ کیا جن میں سے ایک کا ذکر میں ابھی کررہاہوں ۔مرزا افضال بیگ رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے شعبہ پروڈیکشن میں لیکچرار ہیں،وہ اس الوندی لیڈرشپ کیمپ کی میڈیا ٹیم کو لیڈ کررہے تھے ۔ انہوں نے اپنی داستان کچھ یوں سنائی ۔

”میں نے میٹرک کی تو میرے والد صاحب کی خواہش یہ تھی کہ میں ڈاکٹر بنوں کیونکہ میرے بڑے بھائی ڈاکٹر تھے ۔لیکن مجھے بائیولو جی کی بالکل سمجھ نہیں آتی تھی ۔میں تین سال ایف ایس سی میں لگا تار فیل ہوا ۔ میں سوتا بہت تھا تو میرے والد صاحب کا مشہور ڈائیلاگ تھا ”پتر تو نہیں سوتیا تیرا نصیب سوتیا اے ”۔میرا ایک دوست تھا جس کا پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ ہوا تھا ۔میں نے اس سے پوچھا کہ پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے لئے کتنے نمبر

چائیں ۔ اس نے طعنہ دیا ” بیٹا پہلے پاس تو ہو لو ”۔مجھے اس کی بات شدید ناگوار گزری ۔ میں نے اس کیساتھ ضد لگا لی اور یہ تہیہ کر لیا کہ ہر صورت میڈیا میں داخلہ لینا ہے ۔یہ میری زندگی کا گول بن گیا تھا ۔ میں نے دن رات ایک کیا ،ایف اے پاس کیا ،بی اے پاس کیا اور دوستوں کے مشورے رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی میں اپلی کیا اور میرا داخلہ سکالرشپ پر پروڈیکشن ڈیپارٹمنٹ میں ہوگیا ۔اس کے بعد میرا کوئی گول نہیں تھا ۔ میں چھٹیوں میں گھر گیا تو

مجھے میٹرک کا ایک دوست مل گیا جو ہمارے سکو ل کا ٹاپر تھا ۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا کررہے ہو ۔اس نے پوچھا تم کیا کررہے ہو ۔ میں نے پتایا کہ میراا سلام آباد میں ایک اچھی یونیورسٹی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ ہوگیا ہے ۔ اور تم کیا کررہے ہو؟ اس نے بتا یا کہ میٹر ک کے پیپر دے تھے کہ والد کا انتقا ل ہوگیا ۔ اس کے بعد اپنی پڑھائی جاری نہیں رکھ سکا ۔ا ب میں ایک فیکٹری میں کام کرتا ہوں ۔اللہ کا شکر ہے اچھے پیسے مل جاتے ہیں ، گھر

کا خرچ چل جاتا ہے ۔ اس دن میں نے سوچا کہ اللہ تعالی نے مجھے کتنی نعمتوں سے نوازا ہوا ہے اور مجھے اس کا احساس ہی نہیں ہے ۔ پاکستان میں کتنے فیصد لوگ ایسے ہیں جن کے پاس وسائل نہیں ، جو خواہش کے باوجود آگے پڑھ نہیں سکتے ۔اور اللہ نے مجھے موقع دیا ہے تو میں کیوں اچھی طرح پڑھ نہیں رہا۔اس کے بعد میں نے یونیورسٹی کے ہر ایونٹ میں حصہ لینا شروع کردیا ۔ صرف اس لئے کہ کل اگر اس بندے نے اللہ کو بولا کہ میں توا

س سے زیادہ قابل تھا ، مجھے تم نے یونیورسٹی میں داخلہ نہیں دلوایا اور یہ تو نالائق تھا تین سال ایف ایس سی میں فیل ہوتا رہا ۔ یہ یونیورسٹی پہنچ گیا تو میں کیا جواب دوں گا ؟اس کے بعد میں نے سچے دل سے محنت شروع کردی ۔اللہ کا شکر ہے کہ میں پاکستان لیول پر اور عالمی لیول پر مختلف مقابلہ جات میں جن میں فلم میکنگ ،فوٹو گرافی ، پینٹنگ اور دیگر مقابلہ جات کے اندر میں 25 سے زائد ایوارڈز جیت چکا ہوں۔ میں آپ سب سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اپنی زندگی میں کوئی گول بنائیں ۔ اور اپنی تمام توانائیاں اس کے حصول کے لئے صرف کردیں۔ اللہ تعالی نے آپ کو

جتنے وسائل دیے ہیں اُن کی پوچھ آپ سے ہونی ہے۔ اورجن لوگوں کو ٹاپ کر آ پ اوپر آئے ہیں اُن کے سوالوں کے جواب دینے کے لئے بھی آپ تیار ہوجائیں ۔ ”آج ہماری نوجوان نسل کا سب سے اہم مسئلہ ہی یہی ہے کہ اکثریت نے کوئی گول سیٹ نہیں کیا ہوا ، میں نے بہت سی تربیتی ورکشاپس میں شرکت کی ہے جہاں نوجوانوں کو کہا جاتا ہے کہ اپنا گول کاغذ پر لکھیں ۔ اکثریت نہیں لکھ پاتی کیونکہ ان کا گول واضع نہیں ہوتا ۔اسی وجہ سے نوجوان مایوسی کا شکار ہیں ۔میری یہ کالم پڑھنے والے نوجوانوں سے گزارش ہے کہ اپنی زندگی کا گول متعین کریں اور ان کے والدین

اساتذہ سے گزارش ہے کہ گول متعین کرنے میں اپنے بیٹے بیٹی یا شاگرد کی مدد کریںتاکہ وہ تمام تر صلاحیتیں اس گول کے حصول کے لئے صرف کردیں ۔ دوسر ی گزارش کہ وسائل پر اختیار رکھنے والے طبقے سے ہے۔آپ جان لیں کہ آپ سے ان وسائل کے حوالے سے سوال ہوگا ۔ اللہ نے جو نعمتیں عطا کیںاُن کا کس طرح استعمال کیا ۔ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے خود کو تیار رکھیں ۔